Arab news

Arab news

SHARE

Arab news

قدموں کے نیچے سرخ قالین اور سامنے ناراض مظاہرین

سعودی عرب کے 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، بدھ کے روز جب برطانیہ کے پہلے 3 روزہ سرکاری دورہ پر لندن پہنچے تو ایک طرف ان کا سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا گیا تو دوسری طرف پارلیمنٹ اور دس ڈائوننگ اسٹریٹ کے سامنے جنگ کے شدید ناراض مخالفیں نے ان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرہ کیا۔

20180307_2_29104606_31428675

DXww8JCXcAAJS95

سعودی ولی عہد کی آمد پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ لندن کی سڑکوں پر ولی عہد کے حق میں اور مخالفت میں اشتہارات کی جنگ بھڑک اٹھی ہے۔ لندن کی کالی ٹیکسیوں پر ولی عہد کی بڑی بڑی تصویریں چسپاں تھیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر یمن میں تباہ کن جنگ کا سارا الزام ولی عہد پر لگایا گیا تھا اور انہیں جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔

Demonstrators wave placards from an open top bus during a protest against the visit by Saudi Arabia's Crown Prince Mohammad bin Salman in central London

سوشل میڈیا پر جہاں ایک طرف ولی عہد کے ان اقدامات کی تعریف کی جارہی ہے جن کے تحت خواتین کو کار چلانے کی اجازت دی گئی ہے اور خواتین مرَدوں کے ساتھ فٹ بال میچ دیکھ سکتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں سوشل میڈیا میں سعودی ولی عہد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ولی عہد نے اب بھی کئی بڑی کمپنیوں کے سربراہوں کو قید کر رکھا ہے اوران سے سرمایہ اینٹھنے کے لئے لین دین ہو رہی ہے،انہیں زدوکوب کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب ولی عہد سعودی عرب میں برطانیہ کی طرف سے ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے کوشاں ہیں۔

سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اس ماحول میں کوئی برطانوی کمپنی سرمایہ کاری پر راضی ہو سکتی ہے؟

سعودی ولی عہد کا ہوائی اڈہ پر خیر مقدم وزیر خارجہ بورس جانسن نے کیا جس کے بعد بکنگھم محل میں ولی عہد، ملکہ ایلزبتھ کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر مدعو تھے۔ یہ شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے غیر معمولی اعزاز تھا کیونکہ وہ سربراہ مملکت نہیں ہیں۔ رات کو برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس اور پرنس ولیم نے انہیں کھانے پر مدعو کیا تھا۔ اس انداز کی شاہانہ مہمان نوازی کا مقصد واضح ہے۔ برطانیہ جو پہلے ہی پچھلے تین سال میں سعودی عرب کو ساڑھے چھ ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرچکا ہے، مزید اسلحہ کی فروخت کے سودے اور سعودی عرب میں بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔

na08-MAR-MBS-Queen

سعودی ولی عہد جب وزیر اعظم ٹریسا مے سے ملاقات کے لئے دس ڈاوننگ اسٹریٹ پہنچے تو انہیں باہر گیٹ کے سامنے شدید ناراض مظاہرین کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک شخص کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس نے ولی عہد کے کاروں کے قافلہ کی ایک کار پر انڈا پھینکا۔ سب سے زیادہ ولی عہد کے خلاف احتجاج، یمن کی تباہ کن جنگ پر کیا جا رہا ہے جس کے وہ معمار گردانے جاتے ہیں۔

Demonstrators wave placards from an open top bus during a protest against the visit by Saudi Arabia's Crown Prince Mohammad bin Salman in central London

UK-protesters-to-greet-visiting-Saudi-crown-prince-600x330

Demonstrators drive a van with a large protest poster on it during a protest against the visit by Saudi Arabia's Crown Prince Mohammad bin Salman in central London

پچھلے تین برسوں میں اس جنگ میں سعودی اتحاد کی بمباری سے دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ہلاکت کا دوش برطانیہ کے اسلحہ کو دیا جا رہا ہے جو گزشتہ تین برس میں سعودی عرب کو فروخت کیا گیا ہے جس کی مالیت ساڑھے چھ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سعودی بمباری اور یمن کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے لاکھوں افراد فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یمن کی جنگ کے علاوہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر سعودی عرب میں حکومت کے نکتہ چینوں کی گرفتاری اور انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

جس روز ولی عہد لندن پہنچے پارلیمنٹ میں حزب مخالف لیبر پارٹی کے سربراہ نے الزام لگایا کہ وہ برطانیہ میں شدت پسندوں کی مالی اعانت کر رہے ہیں۔ جیریمی کوربن نے وزیر اعظم سے سوالات کے وقفہ میں کہا کہ یمن میں سعودی بمباری اور ناکہ بندی کی وجہ سے لاکھوں بچے فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ اس جرم میں برطانیہ بھی ملوث ہے جو سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔

The Crown Prince Of Saudi Arabia Visits The UK

لبرل ڈیموکریٹس کے سربراہ ونس کیبل نے ٹیریسا مے کی حکومت کی مذمت کی کہ اس نے قرون وسطی کی ایک مذہبی آمریت کے سربراہ کیلئے سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا ہے۔انہوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب پر اپنا اثر استعمال کرے اور یمن میں تباہ کن بمباری فوری رکوائے۔

لیبر پارٹی کی شیڈو وزیر خارجہ ایملی تھارن بیری نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، یمن میں تباہ جن جنگ شروع کرنے اور شام میں جہادیوں کو مالی امداد دینے کے ذمہ دار ہیں اور گزشتہ آٹھ ماہ میں جب سے وہ ولی عہد بنے ہیں سعودی عرب میں سر قلم کرنے کی سزاوں میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ ساری دنیا میں انسانی حقوق اور جنگی جرائم کی بات کرتا ہے لیکن جب معاملہ سعودی عرب کے جنگی جرائم کا آتا ہے تو وہ شرمناک خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔

749381

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹریسا مے سعودی عرب کے ساتھ اسلحہ اور سرمایہ کاری کے سودے اور بریگزٹ کے بعد تجارتی سمجھوتے کے لئے سخت پریشان ہیں۔ اس لئے سعودی ولی عہد پر کڑی نکتہ چینی کے باوجود وہ ان کی خوشامدانہ پذیرائی کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹریسا مے بار بار اس پر زور دیتی ہیں کہ برطانیہ کے سعودی عرب سے دیرینہ قریبی تعلقات ہیں اور سعودی عرب سے انٹیلی جنس اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کی بدولت برطانیہ میں دھشت گردی پر قابو پانے میں بڑی مدد ملی ہے اور برطانوی جانیں بچی ہیں لیکن انہوں نے اس کی کبھی وضاحت نہیں کی۔

More Related News

saudi jail

ch nisar in pti

Firing on car

Domicile news

Mirpur Police news